Imam e Zamana a.t.s. ki Marefat ke Mauzu per Irani Ulama ne Symposium mai khitab kia

۵۲ مئی کو معرفت امام زمانہ عج کے موضوع پر مجلس علماءہند میں سمپوزیم کا انعقاد ہوا

ضروری وضاحت : اہلبیت کونسل انڈیا کے اراکین نے دفتر مجلس علماءہند سے ۳۲ مئی کو رات کے وقت رابطہ کیا کہ ایرانی علماءلکھنو¿ آرہے ہیں لہذا اگر آپ چاہیں تو منعقد ہورہی کلاسیز میں امام زمانہ ؑ کی معرفت کے موضوع پر انکا ایک لیکچر رکھا جاسکتاہے ۔چونکہ اسی دن دفتر میں ایک اور پروگرام تھا لہذا پھر بھی رات میں اس سمپوزیم کو انعقاد کیا گیا ۔ہفتہ وار دینی کلاسیز کے طلباءکو فورا فون کرائے گئے اور ان تک پروگرام کی خبر پہونچائی گئی نیز انہیں اس پروگرام کی اہمیت کے بارے میں خبر دی گئی ۔اسکے علاوہ اخبارات میں سمپوزیم کی خبر کو نشر کیا گیا تاکہ جو نوجوان شامل ہونا چاہیں وہ شرکت کرسکیں ۔اسکے علاوہ ایک دن میں پروگرام کی تمام تیاریاں کی گئیں ۔سمپوزیم کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا ۔ایرانی علماءکے خطاب کا اردو ترجمہ مولانا اصطفی رضانے کیا ۔مولانا جلال حیدر نقوی نے مہمانوں کو بھر پور تعارف پیش کیا ۔عادل فراز نقوی نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔ تقاریر کے آخر میں نوجوانوں نے مہمان علماءسے” زمانہ ¿ غیبت میں ہماری ذمہ داریاں کیاہیں اور انتظار کا صحیح مفہوم کیاہے “کے موضوع پر مختلف سوالات کئے جنکے تسلی بخش جوابات دیے گئے

سخن رانی :
حجتہ الاسلام آقائی محمد شہبازیان نے جوانوں سے اپنے خطاب میں کہاکہ ”ایک اسلام محمدی ہے اور ایک اسلام امریکائی ہے ۔اسلام محمدی انسان کی فلاح و بہبود اور امن و اتحاد کی دعوت دیتاہے اور اسلام امریکائی اسلام کے نام پر انتشار ،جہالت ،اختلاف،جنگ ،فساد اور بدعتوں کی ترویج کرتاہے ۔آقائی شہبازیان نے اپنے خطاب میں مزید کہاکہ مسجدوں کو بڑی تعداد میں آباد کرنا کمال نہیں ہے ۔اسلا م کے دشمنوں کو ان مسلمانوں سے کوئی خطرہ نہیں ہے جو صرف مسجدوں کو آباد کرنے میں جی جان سے مصروف ہیں اور سماج و معاشرہ کے مسائل سے جاہل ہیں ۔دشمن کو خطرہ ہے ان مسلمان نوجوانوں سے جو عبادات اور فرائض کی انجام دہی کے ساتھ سماج و معاشرہ کے مسائل پر توجہ کرتے ہیں۔کیونکہ اسلام خود سازی کے ساتھ سماج و معاشرہ کی فلاح و بہبود کے لئے آیاہے ناکہ فقط نمازیں پڑھوانا اور مسجدیں آبادکرنا اسکا مقصد اصلی ہے ۔انہوں نے مزید اپنے خطاب میں کہا کہ آج نوجوان نسل کو اپنی ذمہ داری کو سمجھنا بہت ضروری ہے ۔اسلام اور اہلبیت ؑ کے نام پر جن رسومات اور خرافات کو داخل اسلام کیا جارہاہے انکی مخالفت کرنا اور سماج کو ان برائیوں سے بچانا بیحد ضروری ہے ۔ایسی رسومات اور خرافات سے بچنا چاہئے جنہیں آج کا مغربی میڈیا اسلام کے خلاف ہتھیار کے طورپر استعمال کرہاہے اور غیر مسلم اسلام سے بد ظن ہوتے جارہے ہیں ۔
انہوں نے مزید کہاکہ شیعہ و سنی اتحاد ہر حال میں ضروری ہے ۔جو انتشار اور اختلاف کی بات کرتاہے وہ مسلمان نہیں بلکہ دشمن کا مددگار ہے ۔غیبت کے زمانے میں ہمیں چاہئے کہ اتحاد و امن کے لئے کوشش کریں ۔امام زین العابدین ؑ کی ایک دعا ہے جس میں آپ نے سرحد کے محافظوں کے لئے دعا کی ہے ۔یہ کونسا زمانہ ہے کہ جس زمانہ میں امام زین العابدین ؑ سرحد کے محافظوں یعنی فوجیوں کے لئے دعا کررہے ہیں ۔کیا سرحد کے سبھی محافظ شیعہ تھے ؟ نہیں بلکہ سنی و شیعہ اور ممکن ہے کہ غیر مسلم بھی شامل رہے ہوں ۔شیعہ وسنی اختلافات سامراجیت کا دیرینہ منصوبہ ہے ۔یہ سازش اسی صورت ناکام ہوسکتی ہے کہ آپسی میل جول میں اضافہ ہو اور متحد ہوکر ملت کے ارتقاءکے لئے کوشش کی جائے۔آقائی شہبازیان نے تفصیل کے ساتھ عقیدہ مہدویت ؑ پر روشنی ڈالی اور مسلمانوں کے خلاف سامراجی و صہیونی منصوبہ بندی پر بھی تفصیلی گفتگو کی ۔
مجلس علماءہند کے جنرل سکریٹری مولانا سید کلب جواد نقوی نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہاکہ جو باتیں مہمان علماءنے یہاں پیش کی ہیں ان پر غورکریں ۔اس وقت اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے ۔انتشار و اختلاف ہماری طاقت کو ختم کردیگا یہ سمجھنا ضروری ہے ۔مولانا نے کہاکہ اللہ نے یہ دنیا تباہی و فساد کے لئے نہیں بنائی ہے اور نہ اس نے کہیں تباہی اور فساد کی دعوت دی ہے ۔اس کے تمام پیغمبروں اور ائمہ کا مقصد انسانیت کی فلاح و بہبود اور سماج کی تعمیر تھا۔مولانا نے مزید انتظار کے فلسفہ کو بیان کیا اور عقیدہ مہدویت کی تشریح کی ۔
آقائی محمد رضا نصوری نے اپنے خطاب میں کہا کہ نوجوانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ قرآن و عترت کی مرضی کے مطابق عمل کریں اور اپنی معرفت میں اضافہ کریں ۔اپنے ہر عمل کو عقل و منطق کے پیمانے پر کسیں اور غورکریں کہ آیا ہماری زندگی مطابق قرآن و عترت ہے یا نہیں ۔انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہاکہ جس وقت انسان کی سطح ذہنی بلند ہوگی اس وقت انسان ہر شبہ اور ہر مسئلہ کا جواب تلاش کرلے گا ۔علمی طور پر مضطوط ہوں تاکہ جہالت کے اندھیروں سے علم کی روشنی میں کام کرسکیں ۔پہلے خود اپنی ذات کو پاک و پاکیزہ کریں یعنی گناہ کے قریب نہ جائیں ،اچھا اخلاق اپنائیں اور اپنی رفتار و گفتار کو مرضی الہی کے سانچے میں ڈھالیں ۔ عباد ات میں سنجیدگی اختیار کریں ۔امرابالمعروف کریں اور برائیوں سے لوگوں کو روکیں ۔

Related Images