4 Jan 2017 ko Shaheed Ayatollah Shaikh Baqir al Nimar ki pehli Barsi ke mauqe per Majlise Ulamae Hind ki janib se Dargah Hazrat Abbas Lucknow me Majlise Aza Munaqid ki gai.

शहीद की याद मनाना जिंदा कौमों की निशनी है: कल्बे जवाद
1/5/2017, 2:19:14 PM
अयातुल्लाह शहीद शेख बाकिर उल निम्र की पहली बरसी के अवसर पर मजलिस का आयोजन लखनऊ 5 जनवरी : अयातुल्लाह शहीद शेख बाकिर उल निम्र की पहली बरसी के मौके पर दरगाह हजरत अब्बास रुस्तम नगर लखनऊ में मजलिसए ओलमाये हिन्द द्वारा एक मजलिस का आयोजन किया गया था ।इस मजलिस को मजलिसए ओलमाये हिन्द के महासचिव मौलाना सैयद कल्बे जव्वाद नकवी ने संबोधित किया ।मजिलस को संबोधित करते हुए मौलाना कल्बे जव्वाद नकवी ने कहा कि शहीद का खून बेकार नहीं जाता यह अल्लाह का वादा है।जालिमों ने एक धर्मगुरू की सच्चाई और न्याय की माॅग को अपराध का नाम देकर फांसी दे दी ।फांसी देने का ये फैसला सऊदी शासकों के इन्साफ,हक्कगोई और इन्सानियत व इस्लाम दुश्मनी का स्पष्ट सबूत हे। अयातुल्लाह शहीद शेख बाकिर उल निम्र मुसलमानों के अधिकारों की वसूली, चरमपंथी टोले के आतंकवाद के खिलाफ और न्याय के लिए संघर्ष कर रहे थे ,जालिम सऊदी सरकार कभी इंसाफ मांगने वालों को जिंदा देखना नहीं चाहती इसीलिए उन्हें कई बार गिरफ्तार किया गया और शारीरिक व मानसिक यातनाएं दी गईं मगर जो अल्लाह के लिए जीता है वह मौत से नहीं डरता। मौलाना ने कहा के शहादत का जिक्र करना जिन्दा कौमों की निषानी है। शहादत कौमों के खयालात व फिा्र व नजरीयात मै इन्किलाब पेदा करती है।जो कौमें अपने शहीदों को याद नहीं करतीं वे समाप्त हो जाती हैं। मौलाना ने दौराने तकरीर कहा कि असंभव है कि शहीद की कुरबानी बर्बाद हो। यह प्रकृति व कुदरत के कानुन के खिलाफ है ।शहादत एक हथियार है जिससे जालिम खुद अपनी गर्दन काट लेता है। मौलाना ने कहा कि षेख बाकिर उल निम्र की शहादत के बाद सऊदी सरकार का पतन हुआ और इनशायाललह अब इस्से भी अधिक बुरे दिन देखना बाकी हैं ,षाहीद का खून रंग लाता है और दुनिया जालिम सऊदी अरब सरकार की बर्बादी देख रही है। मजलिस तिलावते कुरान से षुरू हुयी।उसके बाद षायरों ने षहीद निम्र को श्रद्धांजलि दी ।मजलिस से पहले मौलाना फिरोज हुसैन ने शहीद अयातुल्लाह बाकिर उल निम्र के बलिदान का उल्लेख किया। मौलाना साबिर अली इमरानी ने शहीद को अषआर के जरिए श्रद्धांजलि पेश की। मजलिस में मौलाना रजा हुसैन, मौलाना हैदर अब्बास, मौलाना फैरोज हुसैन, मीसम रिजवी, हिदायत नवाब इमरान नकवी, और अन्य उलेमा व मोमनीन ने भाग लिया। अयातुल्लाह शहीद बाकिर उल निम्र की पहली बरसी पूरी दुनिया में मनायी जा रहा है। लखनऊ में मजलिसए ओलमाये हिन्द की ओर से इस संबंध की पहली मजलिस दरगाह हजरत अब्बास रुस्तम नगर में आयोजित हुई। दूसरी मजलिस 6 जनवरी को नमाजे जुमा के बाद आसफि मस्जिद में आयोजित होगी जिसे मौलाना नकी असकरी साहब संबोधित करेंगे ।तमाम मोमनीर से अनुरोध है कि 6 जनवरी को जुमे की नमाज के तुरंत बाद आयोजित होने वाली मजलिस में भी जरूर शरीक हों और अत्याचार के खिलाफ आवाज बुलंद करें।
Read more at: https://www.instantkhabar.com/item/2017-01-05-lucknowkalbe.html
'''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''
شہید کا تذکرہ قوموں کے افکار و خیالات میں انقلاب پیدا کرتاہے :مولانا کلب جواد نقوی
آیت اللہ شہید شیخ باقرالنمر کی مجلس برسی میں علماءاور عوام نے کی شرکت ،مولانانے کہا کہ شیخ کی شہادت کے بعد سعودی عرب کا زوال یقینی ہے جسکا آغاز ہوچکاہے۔
لکھنو جنوری : آیت اللہ شہید شیخ باقرالنمر کی پہلی برسی کے موقع پر درگاہ حضرت عباس رستم نگر لکھنو┐ میں مجلس علماءہند کے زیر اہتمام ایک مجلس عزا کا انعقاد کیا گیا تھا ۔مو┐منین شہر لکھنو کی جانب سے منعقد اس مجلس عزا کو مجلس علماءہند کے جنرل سکریٹری مولانا سید کلب جواد نقوی نے خطاب کیا ۔مجلس کو خطاب کرتے ہوئے مولانا کلب جواد نقوی نے کہاکہ شہید کا خون رائیگاں نہیں جاتا یہ اللہ کا وعدہ ہے ۔ظالموں نے ایک عالم دین کی حق بیانی و انصاف طلبی کو جرم قراردیکر پھانسی دیدی ۔پھانسی دینے کا یہ فیصلہ سعودی حکمرانوں کی حق و عدالت کی مخالفت اور اسلام دشمنی کا واضح ثبوت ہے۔شہید باقرالنمر مسلمانوں کے حقوق کی بازیابی ،تکفیری ٹولے کی دہشت گردی کے خلاف اور انصاف کے لئے جد و جہد کر رہے تھے ۔ظا لم حکومت کبھی عدل و انصاف طلب کرنے والوں کو زندہ دیکھنا نہیں چاہتی اسی لئے انہیں متعدد بار گرفتار کیا گیا اور جسمانی و ذہنی اذیتیں دی گئیں مگر جو اللہ کے لئے جیتا ہے وہ موت سے نہیں ڈرتا۔
مولانا نے کہاکہ کائنات کا پہلا شہید حضرت آدم کے فرزند جناب ہابیل ہیں ۔جنکے لئے قرآن میں حکم ہے کہ اے رسول لوگوں کے سامنے ہابیلؑ و قابیل کے سچے واقعہ کو بیان کریں ۔یعنی قرآن کے حکم کے مطابق شہید کی قربانی کا تذکرہ کرنا سنت الہیہ ہے ۔مولانا نے کہاکہ جو لوگ کہتے ہیں کہ شہید کی قربانی کا تذکرہ کرکے کیا فائدہ حاصل ہوتاہے؟ ۔اسکا فیصلہ اللہ پر چھوڑ دینا چاہئے ۔آخر کربلا کے واقعہ کو اتنا کیون بیان کیا جاتاہے؟ یزید اور امام حسین ؑ کا فیصلہ روز قیامت خود اللہ کردے گا ۔مولانا نے کہاکہ یہ فکر قرآن کریم کے خلاف ہے ۔قرآن کریم رسول اسلام کو حکم دے رہاہے کہ جناب ہابیل ؑ کی شہادت او قابیل کے ظلم کا تذکرہ کرو ۔اگر شہادت کا تذکرہ کرنا غیر اسلامی ہوتا تو اللہ کبھی اپنے رسول کو یہ حکم نہ دیتا ۔جناب ہابیل کی قربانی کا تذکرہ کرنے کا حکم اس لئے بھی دیا گیا تاکہ دنیا کو معلوم رہے کہ قاتل کون ہے اور مقتول کون ہے ۔کون ظلم کا طرفدار ہے اور مظلومیت کے ساتھ قتل کردیا گیا ۔مولانا نے کہاکہ شہادت کا تذکرہ قوموں کی حیات کا ضامن ہے ۔شہادت کا تذکرہ قوموں کے جذبات ،افکار و خیالات میں انقلاب پیداکرتاہے ۔جو قومیں اپنے شہیدوں کو یاد نہیں کرتیں وہ ختم ہوجاتی ہیں ۔مولانا نے دوران تقریر کہا کہ ناممکن ہے کہ شہید کا خوان ضائع ہوجائے ۔یہ قانون قدرت کے خلاف ہے ۔شہادت ایک اسلحہ ہے جس سے ظالم خود اپنی گردن کاٹ لیتاہے ۔مولانا نے کہا کہ آیت اللہ باقرالنمر کی شہادت کے بعد سعودی حکومت کا زوال ہواہے اور ان شاءاللہ ابھی مزید برے دن دیکھنا باقی ہیں ۔شہید کا خون رنگ لاتاہے اور دنیا ظالم سعودی عرب کی تباہی و بربادی دیکھ رہی ہے ۔
مجلس کا آغاز تلاوقت قرآن کریم سے ہوا ۔اسکے بعد شعراءکرام نے آیت اللہ شہید باقرالنمر کو خراج عقیدت پیش کیا ۔مجلس سے پہلے مولانا فیروز حسین نے شہید آیت اللہ باقرالنمر کی قربانیوں اور جانفشانیوں کا تذکرہ کیا ۔مولانا صابر علی عمرانی نے شہید باقرالنمر کو اشعار کے ذریعہ خراج پیش کیا ۔مجلس میں مولانا رضا حسین ،مولانا حیدر عباس ،مولانافیروز حسین ،میثم رضوی ،ہدایت نواب ،عمران نقوی ،اور دیگر علماءو مو┐منین نے شرکت کی ۔

Related Images