Gustakhe Rasool Kamlesh Tiwari ke khilaf Majlise Ulmae Hind ne Ehtejaj kiya

اہانت رسول کی سزا موت ہے ،شیعہ و سنی علماءمشترکہ طور پر احتجاجی مظاہرہ کریں :مولانا کلب جواد نقوی
اہانت رسول خدا کے خلاف آصفی مسجد میں ہوا احتجاجی مظاہرہ ،ریاستی سرکار سے کملیش تیواری کی پھانسی کا مطالبہ کیا گیا
اہانت رسول کے مجرم کملیش تیواری کے خلاف آج مجلس علماءہند کی جانب سے مولانا سید کلب جواد نقوی کی سرپرستی میں آصفی مسجد کے باہر احتجاجی مظاہرہ ہوا ۔نماز جمعہ کے بعد ہوئے مظاہرہ میں مظاہرین کو خطا ب کرتے ہوئے مولانا کلب جواد نقوی نے کہاکہ اہانت رسول کا مجرم صرف کملیش تیواری ہی نہیں ہے بلکہ وہ نام نہاد مسلمان وزیر بھی ہے جس نے پہلے ہندو مہا سبھا کے خلاف بیان دیا ۔اس وزیر کے بھڑکاﺅ بیان کے بعد کملیش تیواری نے اہانت رسول کی ہے لہذا اس وزیر کو بھی اہانت رسول کا مجرم مانتے ہوئے گرفتار کیا جائے اور سزا دی جائے ۔مولانا نے کہا کہ یہ ہندو مہا سبھا اور اس وزیر کی ملی بھگت سے ہوا ہے تاکہ ہندو مسلمان آپس میں لڑتے رہیں اور ووٹ تقسیم ہوجائیںیہ نام نہاد مسلمان وزیرریاستی سرکار کو لے ڈوبے گا ۔
مولانانے کہا کہ اس وقت اسلام دشمن طاقتیں مسلمانوں کو ذہنی ٹارچر کررہی ہیں اس لئے رسول خدا کی شان میں گستاخی کی جارہی ہے اور بھڑکاﺅ بیانات دیے جارہے ہیں،مولانا نے کہا کہ اس وقت اہانت رسول کے خلاف شیعہ و سنی مسلمانوں کو مل کر بڑا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے ۔جس طرح رسول خدا کا کارٹون بنانے والے کے خلاف شیعہ و سنی علماءنے مشترکہ احتجاج کیا تھا اسی تاریخ کو دہرانے کی ضروت ہے تاکہ متعصب افراد کے منہ بند ہوں اور سرکار مجبور ہوکر اسکے خلاف پھانسی کی سزا دینے کی کاروائی کرے ۔مولا نا نے کہاکہ اہانت رسول کی سزا شریعت میں موت ہے لہذ ا صرف اسکی گرفتاری یا این ایس اے لگانے سے کچھ نہیں ہوگا حکومت اسے سزائے موت دے اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو سمجھا جائیگا کہ ریاستی حکومت بھی اہانت رسول میں اسکے ساتھ شامل ہے ۔
نماز جمعہ کے بعد آصفی مسجد سے احتجاجی جلوس برآمد ہوا اور بڑے امام باڑے کے باہر سڑک پر پہونچ کر کملیش تیواری کا پتلا نذر آتش کیا گیا ۔مظاہرین نے سرکار سے مطالبہ کیا کہ اہانت رسول کے جرم میں کملیش تیواری کو پھانسی کی سزا دی جائے اور اس وزیر کے خلاف بھی ویسی ہی کاروائی ہو جس کے بھڑکاﺅ بیان کی وجہ سے کملیش تیواری نے اہانت رسول کی جرا┐ت کی ۔
مظاہرے میں مولانا زوار حسین ،مولانا فیروز حسین ،مولانا سرکار حسین اور مولانا شباب حیدر کے علاوہ دیگر علماءنے شرکت کی ۔

Related Images