Youm ul Quds Day 2016

شیعہ سنی اتحاد اسرائیل اور امریکہ کی موت کا نام ہے :مولانا کلب جواد نقوی
عالمی یوم قدس کے موقع پر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ہوا،پرچم بھی جلائے گئے ،ہزاروں مسلمانوں نے کی شرکت

لکھنو┐ ۰۱ جولائی : مجلس علماءہند کے زیر اہتمام ۰۱ جولائی ۵۱۰۲ کو نما ز جمعہ کے بعد بڑے امام باڑے پر عالمی یو م قدس منایا گیا جس میں ہزاروں مسلمانوں نے شرکت کی اور قبلہ اول بیت المقدس کے تحفظ اور مسجد اقصیٰ کی بازیابی کے لئے امریکہ و اسرائیل کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ،ساتھ ہی عالمی سطح پر جاری دہشت گردی کی پر زور مذمت کی گئی ۔ نماز جمعہ کے بعد تمام مظاہرین اسرائیل اورامریکہ کے خلاف لکھے ہوئے پلے کارڈ اور بینر ہاتھوں میں لئے ہوئے جلوس کی شکل میں بڑے امام باڑے کے صدر دروازہ پر پہونچے ۔مظاہرین امریکہ ،اسرائیل اور سعودی عرب حکومتوں کے خلاف نعرہ بازی کررہے تھے ۔بڑے امام باڑے کے صدر دروازہ پر پہونچ کر مولانا کلب جواد نقوی نے مظاہرین کو خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پوری دنیا میں مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے ،شیعہ و سنی دونوں امریکہ ،اسرائیل اور تکفیری فرقہ کی دہشت گردی کے شکار ہیں ۔مولانا نے کہاکہ ہم یو القدس اس لئے مناتے ہیں تاکہ مظلوموں کی حمایت ہو اور ظالموں کی مخالفت کریں ۔کیونکہ وہ شیعہ ہو ہی نہیں سکتا جو ظلم پر خاموش رہے ۔شیعہ ہمیشہ ظالم کا مخالف اور مظلوم کا حامی ہوتاہے ۔مولانانے سخت الفاظ میں کہاکہ مسلمانوں کا اتحاد ہی اسرائیل اور امریکہ کی موت ہے ۔شیعہ سنی اگر عالمی پیمانے پر متحد ہو جائیں تو اسرائیل اور امریکہ جیسی طاقتیں دم توڑ دینگی مگر ان کی پوری کوشش یہی ہوتی ہے کہ کسی بھی طرح اتحاد نہ ہوسکے ۔اسکی ایک مثال ابھی دیکھنے میں آئی جب ایک ہوٹل میں اسرائیل اور سعودی عرب نے خفیہ میٹنگ کی جس میں مولویوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی ۔یہ طاقتیں مسلمانوں کے اتحاد کو ختم کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں ۔
اسرائیل اور امریکہ جیسی سامرجی طاقتوں نے بڑے پیمانے پر غازہ اور فلسطین میں بچوں ،عورتوں اور بوڑھوں کو بیدردی سے قتل کیا ہے وہیں یمن ،عراق اور کویت میں سعودی عرب کی حکومتیں تکفیری فرقہ کے ذریعہ مسلمانوں خصوصا شیعوں کو خود کش حملوں میں قتل کررہے ہیں ،مسجدوں پر حملے ہورہے ہیں ۔مولانا نے کہاکہ رسول اسلام نے فرمایا ہے کہ مظلوم کی حمایت کرو چاہے وہ اجنبی ہی کیوں نہ ہو اور مظلوم کی مخالفت کرو چاہے وہ تمہارا قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو ۔مظاہرین نے فلسطینیوں کی حمایت میں نعرہ بازی کی اور اسرائیل کے مظالم کے خلاف ااسرائیل و امریکہ کا پرچم نذر آتش کیا ۔مظاہرہ میں مولانا تسنیم مہدی زید پوری ،مولانا حبیب حیدر ،مولانا علی عباس خان ،مولانا شباہت حسین ،مولانا رضا حسین مولانا زوار حسین ، مولنا اشباب حیدر اور دیگر علماءموجود رہے ۔مظاہرہ کے بعد عزتمآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی کے نام دیے گئے میورنڈم کی کاپی اے سی ایم ٹو کو سونپی گئی ۔۔مظاہرہ میں میمورنڈم کے نکات بھی پڑھ کر سنائے گئے جو عزتمآب وزیر اعظم نریندر مودی جی کے نام تھے ۔
میمورنڈم:
۱۔غزہ پٹی پر جاری اسرائیلی جارحیت اور بربریت کو فورا ختم کیا جائے اور محاصرہ اٹھایا جائے ۔
۲۔ہندوستانی حکومت فلسطین کی مالی امداد کرے تاکہ اسرائیلی بمباری میں تبا ہ فلسطینی اپنے مکانات دوبارہ تعمیر کرسکیں،اور اسرائیل کو انسانی حقوق کی پامالی کا مجرم قرار دیاجائے۔
۳ ۔ہند وستانی حکومت یمن میں جنگ بندی کے لئے مناسب اقدام کرے تاکہ بے گناہوں کا قتل عام بند ہو ۔
۴۔مظاہرین نے کویت میں دہشت گردانہ حملے میں شہید ہوئے رضوان حسین اور ابن حیدر کے خانوادے کو مالی امدا د دیے جانے کا مطالبہ کیا ۔
۵۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ہندوستان کی پالیسی ہمیشہ فلسطین حامی رہی ہے لہذا حکومت ہند اسرائیل سے متعلق اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرے ۔
مجلس علماءہند کے زیر اہتمام منعقد ہونے والا یہ اجلاس عالمی سطح پر داعش اور اسکے جیسی دہشت گرد تنظیموں کے ذریعہ کی جارہی دہشت گردی اور انسانیت کے قتل عام کی پر زور مذمت کرتاہے ۔

Related Images